اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایسوسی ایٹڈ پریس نے خلائی تصاویر کی بنیاد پر اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس حفاظتی دیوار کی لمبائی 23 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور اسے نام نہاد "ییلو لائن" کے ساتھ تعمیر کیا جا رہا ہے۔
صہیونی فوج نے اس رکاوٹ کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا مقصد ایک حفاظتی علاقہ قائم کرنا اور مزاحمتی قوتوں کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس دیوار کا بیشتر حصہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ان علاقوں میں تعمیر کیا گیا ہے جو جنگ کے دوران تباہ ہو چکے تھے، جبکہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جنوبی غزہ میں اس کی لمبائی میں مزید دو کلومیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نام نہاد "ییلو لائن" کو مستقبل میں غزہ کے اندر ایک مستقل سرحد کی حیثیت دی جا سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دیوار کی تعمیر کے دوران رہائشی علاقوں اور زرعی اراضی کو بڑے پیمانے پر مسمار کیا گیا، جبکہ نئی فوجی سڑکیں اور عسکری اڈے بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
خلائی تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ رفح اور غزہ کے دیگر فلسطینی علاقوں کے وسیع حصے بلڈوزروں اور دھماکا خیز مواد کے ذریعے تباہ کیے جا چکے ہیں اور ان کھنڈرات پر نئی فوجی تنصیبات تعمیر کی جا رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ